جکارتہ،25اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) انڈونیشیا کی بحریہ نے اپنی گمشدہ آبدوز جس میں 53 افراد سوار تھے، اس میں موجود کچھ اشیا سمندر سے ملنے کے بعد ہفتہ کو اس کے ڈوبنے کی تصدیق کردی ہے۔ جرمن ساختہ یہ آبدوز بدھ کی صبح لاپتہ ہو گئی تھی۔
عرب نیوز کے مطابق آبدوز کے اندر موجود اشیا میں پیری اسکوپ کے لئے استعمال کی جانے والی گریس کی بوتل، جانمازیں اور ایک ٹیوب سے ملنے والا کچھ سامان شامل ہے جو تارپیڈو سے بچاتا ہے۔
بحریہ کے چیف آف سٹاف ایڈمرل یوڈو مارگونو نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ اگر تارپیڈو لانچر میں کوئی دراڑیں نہ ہوتیں تو یہ چیزیں آبدوز سے علیحدہ نہ ملتیں۔
آبدوز کے ماہرین اور عملے کے سابق ارکان نے کہا ہےکہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چیزیں آبدوز کی ہیں۔ یہ مستند ثبوت مل جانے کے بعد ہم نے آر آئی ننگالا کا سٹیٹس سب مس سے سب سنک کر دیا ہے۔
ہفتہ کی صبح آکسیجن فراہمی کی حتمی مدت ختم ہونے کے ساتھ ساتھ عملے کی سلامتی کی امیدیں بھی ختم ہونا شروع ہوگئی ہیں لیکن مارگونو نے کہا ہے کہ تلاش اوربازیابی پر مامور گروپ امکانی طور پر زندہ بچ جانے والے افراد کے طبی انخلا کا منصوبہ تیار کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ابھی ایسا کوئی وقت طے نہیں کیا کہ انخلا کا عمل کب ہوگا اور اس میں کتنا وقت لگے گا۔ ہمیں جو کچھ ملا اس کی بنیاد پر ہم اس کی جانچ کر رہے ہیں اور ہمارے پاس ابھی تک کسی بھی فرد کے حادثے کا شکار ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔
کاکرا کلاس آبدوز جو 1981 سے بحریہ کے لئے خدمات انجام دے رہی تھی، اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بالی کے شمالی پانیوں میں 850 میٹر گہرائی میں ڈوبی ہے۔